26سالہ امبر نے اپنا وزن 289کلو سے کتنا کم کر لیا ؟ اب انتہائی خوبصورت دکھنے والی امبر نے خود کو سلم اور سمارٹ کیسے بنایا ؟ وزن کم کرنے کے خواہشمندوں کیلئے زبردست خبر

26سالہ امبر نے اپنا وزن 289کلو سے کتنا کم کر لیا ؟ اب انتہائی خوبصورت دکھنے والی امبر نے خود کو سلم اور سمارٹ کیسے بنایا ؟ وزن کم کرنے کے خواہشمندوں کیلئے زبردست خبر
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)یقین کریں یا نہ کریں مگر تین سال پہلے 26 سالہ امریکی خاتون امبر راچڈی کا وزن 289 کلو گرام سے زائد تھا اور ان کی حالت بہت زیادہ خراب تھی بلکہ معذور کہنا زیادہ درست ہوگا۔

2014 میں یہ خاتون امریکا میں چلنے والے ایک ایسے رئیلٹی ٹی وی شو میں شریک ہوئیں جس میں ایسے افراد کو پیش کیا جاتا تھا جو کہ بہت زیادہ موٹاپے کا شکار ہوکر زندگی گزارتے ہیں، جس کے دوران انہیں روزمرہ میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور کس جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے۔

تو امبر اس شو میں 2014 میں شریک ہوئیں اور اس وقت ان کا وزن 289 کلوگرام سے زیادہ تھا اور ان کے لیے عام چیزیں جیسے چند قدم چلنا بھی لگ بھگ ناممکن ہوچکا تھا، وہ گاڑی میں فٹ نہیں ہوتی تھیں اور خود نہانے سے بھی قاصر تھیں، آسان الفاظ میں زندگی بستر تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔

شو کے دوران امبر نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اب وہ کبھی بہتر ہوسکیں گی مگر خود کو ٹی وی پر دیکھنے کے بعد انہوں نے موٹاپے سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا۔اب تین سال بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل چکی ہے اور اپنے وزن کو وہ 182 کلوگرام تک کم کرچکی ہیں، مگر انہوں نے ایسا کمال کیسے کر دکھایا؟

تو اس کے لیے انہوں نے اپنی غذائی عادات اور جسمانی سرگرمیوں میں تبدیلیوں کو اپنایا اور اپنے جسمانی وزن کو اتنا کم کرلیا کہ موٹاپے میں کمی لانے والی سرجری کراسکیں۔ان کے بقول ‘ ایسی سرجری عارضی فائدے کے لیے اچھا ٹول ہے مگر یہ مستقل اثر نہیں رکھتی بلکہ موٹاپے کو خود سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان صحت بخش غذا اور جسمانی سرگرمیوں جیسی نئی عادات کو سیکھیں اور ان پر قائم رہے۔
انہوں نے اپنی غذا کے حوالے سے جو تبدیلیاں کیں ان میں گھر کے پکے کھانے کو ترجیح دینا تھا جبکہ ورزش کو اپنا معمول بنا لینا تھا۔اس مقصد کے لیے انہیں گھر والوں اور دوستوں کی مکمل معاونت بھی حاصل رہی اور امبر کے مطابق زندگی میں کبھی بھی اتنی تاخیر نہیں ہوتی کہ آپ خود کو صحت مند نہ بنا سکیں، وزن چاہے جتنا مرضی ہو، آپ عزم کرلیں تو اس سے نجات ممکن ہے، مگر اس کے لیے مثبت تبدیلیوں کو اپنا کر ان پر ڈٹے رہنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں