’1990ءمیں دبئی آیا تو گاڑیاں دھویا کرتا تھا، پھر ساری جمع پونجی اس ایک کام میں لگادی اور آج کروڑ پتی بن گیا ہوں‘ متحدہ عرب امارات جانے والے غیر ملکی کی وہ کہانی جو ہر نوجوان کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

’1990ءمیں دبئی آیا تو گاڑیاں دھویا کرتا تھا، پھر ساری جمع پونجی اس ایک کام میں لگادی اور آج کروڑ پتی بن گیا ہوں‘ متحدہ عرب امارات جانے والے غیر ملکی کی وہ کہانی جو ہر نوجوان کو ضرور معلوم ہونی چاہیے
دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں روزگار کی تلاش کے لئے آنے والے ایسے غیرملکیوں کی کمی نہیں جو خالی ہاتھ آئے اور اب کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ بھارتی شہری شاہ جہاں عباس بھی ایک ایسی ہی مثال ہے جو 27سال قبل متحدہ عرب امارات آئے تو گاڑیاں دھونے کا کام شروع کیا اور اب وہ ایک بڑی کمپنی کے مالک ہیں۔‘

خلیج ٹائمز کے مطابق ’اوئسس گروپ‘ کے مالک شاہ جہان مارچ 1990ءمیں متحدہ عرب امارات آئے۔ ان کے والد یہاں گاڑیاں دھونے کا کام کرتے تھے سو انہوں نے بھی اسی کام سے آغاز کیا۔ کئی سال تک سخت محنت کر کے وہ رقم جمع کرتے رہے اور پھر تمام جمع پونجی سے ایک آٹو میٹک کار واش سنٹر کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے اپنی محدود بچت کے ساتھ یہ کام شروع کیا تھا مگر اپنی محنت سے اسے ایک بہت بڑا کاروبار بنا دیا۔ آج ’اوئسس گروپ‘ کے تحت رئیل اسٹیٹ اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں بھی کاروباری ادارے قائم ہیں جبکہ خیراتی و فلاحی ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔

شاہ جہاں کا کہنا ہے کہ ترقی کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ انہیں اس کامیابی کے حصول میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور شروع میں ناکامیوں کا منہ بھی دیکھنا پڑا لیکن وہ ہمت نہیں ہارے اور اپنی کوشش جاری رکھی۔ بس یہ ان کی مسلسل محنت ہی تھی جو کامیابی کی نوید بنی۔
نوجوانوں کے لئے پیغام دیتے ہوئے شاہ جہاں کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات ہر کسی کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ا نہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص جو 1990ءمیں یہاں ملازمت ڈھونڈنے آیا اب ایک بڑی کمپنی کا مالک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں کونسا اور ملک ہے جو دیگر ممالک کے شہریوں کو ایسے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں