’’ڈپریشن کا بغیر کسی دوا کے علاج‘‘جدید میڈیکل ریسرچ نے ڈپریشن کے مریضوں کی زندگی آسان بنانے کا طریقہ بیان کردیا

’’ڈپریشن کا بغیر کسی دوا کے علاج‘‘جدید میڈیکل ریسرچ نے ڈپریشن کے مریضوں کی زندگی آسان بنانے کا طریقہ بیان کردیا
ڈپریشن خود ایک مہلک مرض بن چکا ہے ، یہ کئی بیماریوں کا موجب بن جاتا ہے۔اس کے علاج کے لئے ادویات سمیت کئی متبادل طریقہ علاج بھی کئے جاتے ہیں لیکن ایک تازہ تحقیق میں ہدایت کی گئی ہے کہ ڈپریشن کا سب سے بہتر علاج ورزش اور پیدل چلنا ہے ۔

اس کے لئے کسی دوا کی ضرورت نہیں بس ہمت درکار ہوتو یہ علاج آپ کے ہاتھ میں آجائے گا ۔کوئینز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ہیش اور انکے ساتھیوں نے بھی امریکن جنرل آف پریونٹو میڈیسن میں تیرہ مضمون لکھ کر انتباہ کیا ہے کہ ڈپریشن تیزی سے بڑھنے والا مرض ہے اور 2030 تک ڈپریشن دنیا کا دوسرا بڑا مرض بن جائے گا۔

لہذا اسکی رو ک تھام کے لئے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے مضامین میں تجویز کیا ہے کہ جو لوگ روزانہ کم ازکم بیس منٹ تیز واک کرنا شروع کردیں گے یا ورزشوں کو زندگی کا معمول بنا لیں گے وہ ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے حملے کے خلاف قوت مدافعت حاصل کر لیں گے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے منسلک ماہرین نے سالہا سال کی تحقیق کے بعد کہا ہے کہ وہ لوگ جو دن میں تھوڑی بہت ورزش بھی کرتے ہیں، اپنی زندگی سے ڈپریشن کو ختم کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے جارج ممن نے زور دیا ہے کہ ڈپریشن کے بہت سے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں
مگر ڈپریشن کو ختم کرنے کیلئے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، ان میں ورزش بہترین طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ورزش کرکے زندگی سے پریشانیوں کو دور بھگایا جاسکتا ہے ۔تاہم ورزش وزن اور عمر کو مدنظر رکھ کرنی چاہئے ۔خاص طور ہلکی پھلکی ورزش زیادہ سود مند ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں