چالیس سال سے بڑی خواتین

چالیس سال سے بڑی عمر کی کوئی عورت تمہیں کبھی رات میں جگا کر یہ نہیں پوچھے گی کہ تم کس کو خواب میں دیکھ رہے تھے؟ یا تم کس کے بارے میں سوچ رہے تھے کیونکہ وہ بہت خود اعتماد ہوتی ہیں اور عمر کے اس حصے میں پہنچ کر ان پر اتنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں کہ وہ تمہارے نئے عشق معاشقوں کی داستانیں نہیں سن سکتی۔ نہ ہی اسے کوئی فرق پڑتا ہے جب تم فٹ بال کا ٹورنمنٹ لگا کر پورا دن بیٹھے رہو گے ۔توہ روتی دھوتی نہیں پھریں گی کہ چینل بدلو، میری شکل دیکھو، وغیرہ وغیرہ۔۔۔وہ جا کر کو ئی ایسا کام کریں گی جو تمہاری فٹ بال گیم سے کہیں زیادہ دلچسپ ہو گا۔ ایک عورت جب چالیس کی عمر کو کراس کر جاتی ہے تو اس کا زندگی کا اتنا تجربہ

کا اتنا تجربہ کا اتنا تجربہ ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو خود اہمیت دیتی ہے اسے باقی لوگوں سے تعریف کی کوئی ضرورت نہیں رہتی اور وہ خود جانتی ہے کہ وہ کیا ہے اور کیسی ہے۔اسے لوگوں کی کسی قبولیت کی بھوک نہیں رہتی۔ ایک عورت جب اتنی بڑی عمر کی ہو جاتی ہے تو اسے اصل میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا خاوند کدھر کدھر منہ مارتا پھر رہا ہے۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔وہ کبھی کسی مہنگے ریسٹورنٹ یا کسی اوپرا تھیٹر میں تمہارے ساتھ چیختی چلاتی ہوئی نہیں ملے گی کیونکہ اس کو کیا کہ تم کیا گل کھلا رہے ہو۔ اس کی زندگی کے ڈھیر سارے کام کرنے کو پڑے ہیں وہ تمہارے ساتھ لڑائیوں میں وقت ضائع نہیں کر سکتی۔

چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین عموماً بہت باوقار ہوتی ہیں اور وہ کسی کی کسی بات کو دل پر نہیں لیتی نہ ہی اپنے شوہر سے بے جا لڑائیاں مول لیتی ہیں۔ ان عورتوں میں حقیقت ، اصلیت اور گہرائی پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔ جب بھی کسی سے ملتی ہیں تو بغیر وجہ کہ دوسرے لوگوں کی تعریف کرتی ہیں اور حوصلہ افزائی کرتی ہیں اس لیے کہ جب وہ جوان تھیں تو انہوں نے خود محسوس کیا ہوتا ہے کہ لوگ ہمیشہ آپ کی ٹانگ کھینچتے ہیں اور آپ کو گراتے ہیں اور وہ اوروں کے ساتھ ایسی بے جا حق تلفی ہرگز نہیں کرتی ہیں۔ چالیس سال سے بڑی عورت تمہاری نس نس سے واقف ہوتی ہے تو جب خاوند کہیں اور منہ ماری کر کے تشریف لاتا ہے تو اسے اپنے کرتوت خود سے بولنے نہیں پڑتی وہ تمہاری شکل دیکھ کر جان جاتی ہیں کہ آج کس کے ساتھ کیا رنگ ریلیاں منا کر لوٹے ہو۔

وہ لڑائی اس لیے نہیں کرتیں کیونکہ تم اب اتنے اہم نہیں رہے ۔ اور وہ تمہاری خامیوں کے با وجود تمہیں ساری عمر صرف برداشت نہیں کریں گی بلکہ تم سے پہلے دن جیسی محبت بھی کرتی رہیں گی۔ایک عورت جب اتنی عمر گزار چکی ہوتی ہے تو وہ اپنے خاوند کے چھیڑنے پر بالکل چڑتی نہیں ہے۔ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کی کون کونسی جوان سہیلیوں کو تم چیل اور عقاب کی نظر سے گھورتے رہتے ہو۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صرف وہی دوستیں زندگی میں بچی ہوتی ہیں جو نیت کا اخلاص رکھتی ہیں اور وہ تمہارے ساتھ مل کر اسے کبھی دھوکہ دے ہی نہیں سکتیں۔ اس عمر کی عورت بہت سنجیدہ مزاج کی ہو جاتی ہے اور وہ صرف سچ بولتی ہے۔ اسے اپنی شکل یاحلیے سے بہت کم فرق پڑتا ہے اور وہ لوگوں کو بالکل ایسے ہی دیکھتی ہے جیسے وہ درحقیقت ہوتے ہیں۔ وہ دھوکے نہیں کھاتی اور کسی قسم کے کامپلیکسز کا شکار نہیں رہتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں