پہاڑ میں موجودپراسرار غار میں کھدائی، ایسی چیز دریافت ہوگئی کہ جس نے دیکھا دیکھتا ہی رہ گیا، حیرت انگیزانکشافات

پہاڑ میں موجودپراسرار غار میں کھدائی، ایسی چیز دریافت ہوگئی کہ جس نے دیکھا دیکھتا ہی رہ گیا، حیرت انگیزانکشافات
ترکی کے تاریخی مقامات دنیابھرمیں مشہورہیں اوران کودیکھنے کےلئے دنیابھرسے سیاح یہاں آتے ہیں ،جبکہ ترکی کے صوبہ کیسری تاریخی مقامات کی وجہ سے دنیابھرمیں مشہورہے کیونکہ اس شہرمیں تاریخی مقامات کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں

لیکن اب اس شہرمیں ماہرین آثارقدیمہ نے ایک زیرزمین شہردریافت کیاہے جس پرخود ماہرین آثارقدیمہ بھی حیران رہ گئے ہیں .ترک میڈیاکے مطابق صوبہ کیسری میں اب ایک زیرزمین قدیم شہر دریافت ہوا جس میں 25چیمبرز موجود ہیں. ایک غار نما راستہ اس شہر میں جاتا ہے. ابتدائی طور پر چرواہوں اور دیگر

مقامی لوگوں نے یہ غار دیکھی اور مقامی انتظامیہ کو اس کواس کے بارے میں آگاہ کیاتوانتظامیہ نے اس جگہ کی تحقیقات کےلئے ماہرین آثارقدیمہ کی خدمات حاصل کرلی اورشہریوں کی نشاندہی پراس غارکی کھدائی شروع کردی گئی تویہ حیران کن انکشاف ہواکہ یہاں توایک قدیم ترین شہرآبادرہاہے اوراس شہرمیں 25چیمبرزاوران کی لمبائی تقریبا80میٹربتائی جارہی ہے .
صوبہ کیسری کے ایک اعلی عہدیدارنے اس قدیم شہرکی د ریافت کے عبد اعلان کیاہے کہ بہت جلد اس غارنماشہرکوسیاحوں کےلئے کھول دیاجائےگاتاہم اس سے قبل یہاں پرسیاحوں کومکمل معلومات فراہم کرنے کےلئے کائونٹرزقائم کئے جائیں گے .انہوں نے بتایاکہ اس

واضح رہے کہ ترکی کی معیشت میں سیاحت کاشعبہ بہت اہمیت کاحامل ہے کیونکہ ترکی کے سیاحتی مقامات کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تاریخی نوعیت سے اپنی مثال آپ اورانوکھے ہوتے ہیں اورترکی کواس شعبہ سے کثیرزرمبادلہ بھی حاصل ہورہاہے .
۷ بی ۔۷سی شکوں کی منظوری کاگزٹ شائع کیا جائے

جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی کسئی قسم کی سوچ پیدا نہ کرسکے۔نمبر ۲۔الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ ء میں ترمیم کے بعد۷ بی ۔ ۷ سی کے متن کو ترمیم میں شامل نہیں کیا گیالیٰذااس کے متن کو بھی الیکشن ایکٹ میں شامل کروا کر گزٹ آف پاکستان میں پیش کیا جائے۔نمبر ۳۔قادیانی، مرزائی اور احمدیوں کی شر انگیزیوں کو کنٹرول کیا جائے اور اسلامی شعائر کے استعمال پر قانونی حد لگا کر قانونی سزائیں دی جائیں نمبر۴۔رانا ثنا ئاﷲ جیسے قادیانی نواز وزرا اور اعلی عہدادروں کر برطرف کیا جائے۔نمبر۵۔مساجد میں چاروں اطراف کے سپیکرا پر لگائی پابندی ختم کی جائے اور اس حوالے سے درج کیے گئے مقدمات ختم کیے جائیں۔ یہ مطابات ہینڈ

بل کی شکل میں تقسیم بھی کیے گئے تھے۔ جو معاہدہ وزیر داخلہ اور تحریک لبیک کے درمیان میں فوج نے کرایا اس میں اس کی شک نمبرشمار ۲ میں لکھا ہے کہ ۷بی۔۷سی کے متن کو الیکشن ایکٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔مگر تحریک منہاج ا لقرآن کے کنیڈاسے واپس آئے، مولاناقادری صاحب نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ شکیں ویسی کی ویسی کی ہی ہیں ۔ حکومت نے اس کی شمولیت کا گزٹ بھی نہیں کیا۔ یہ قادیانیوں؍ احمدیوں کے ووٹر لسٹ میں نام داخل کرنے سے متعلق خاص شکیں ہیں۔ وہ اسطرح کہ اگر کوئی قادیانی ؍ احمدی ووٹر لسٹ میں نام داخل کر واتا ہے اور اعتراض کرنے والا دس دن میں ووٹر لسٹ میں
تصیح نہیں کرواتا تو اس قادیانی ؍احمدی کا نام ووٹر لسٹ میں صحیح شمار کر لیا جائے گا مگر اب ۱۰؍ دن سے ہمیشہ کے لیے مدت بڑھا دی گئی ہے۔ صاحبو! ایک تو قادیانی پرلے درجے کی ٹھگ ہیں۔ وہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم ہیں۔ مگر ٹگھی کر کے وہ سادہ لوح مسلمانوں کے کہتے رہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہیں اور مسلمانوں کے سارے شعائر استعمال کرتے ہیں جو آئین پاکستان کی رو سے غلط ہے ۔ یہ سراسر ٹگھی ہے۔ جو لوگ اﷲ کو اﷲ اور رسولؐاﷲ کو نبی مانتے ہیں وہ تو اپنے آپ کو مسلمانوں کا فرقہ کہہ سکتے ہیں۔ مگر قادیانی مرزا غلام محمد کونبی

اب نواز حکومت نے بھی ٹھگی کر کے پاکستانی عوام کے سامنے جھوٹ بولا کہ اس میں صرف نواز لیگ حکومت کے ممبران ہی نہیں شامل تھے بلکہ اس کمیٹی میں اپوزیشن کے سارے کے سارے دوسرے ممبران بھی شامل تھے۔ نجی ٹی وی ٹاک شو میں طلال چوہدری صاحب نے کہا کہ صرف نواز شریف پارٹی کے لوگ نہیں بلکہ اپوزیشن کے ممبران بھی اس میں شامل تھے۔ پروگرام میں سندھ سے پیپلز پارٹی کی ممبر کہتی رہی کہ طلال چورہدی جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس نجی ٹی چینل نے اپوزیشن کے ممبران کو دوبارہ پروگرام کرایا۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اﷲ، جمعیت اسلام کی خاتون ممبر ،نیشنل عوامی پارٹی کی خاتون ممبر، پیپلز پارٹی کی خاتون ممبر اور فاٹا کے ممبر نے انکار کیا کہ حکومت کے وزیر غلط کہتے ہیں۔ یہ سب لوگ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کمیٹی کے ممبران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی کاروائی کے دوران ختم نبوتؐ کی شک ختم کرنے سے متعلق تو بات تک نہیں ہوئی۔ کمیٹی کی کاروائی کی ریکارڈینگ
پارلیمنٹ میں کے ریکارڈ میں موجود ہے اس کو سن کرپانی کا پانی دودھ کا دودھ ہو سکتا ہے۔ اس پروگرام میں اپوزیش کے ممبران چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ یہ سفید چھوٹ ہے ہمارے سامنے اس کی بات تک نہیں ہوئی۔مگر حکومت کے وزیر جس میں طلال چورہدی صاحب سے آگے آگے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ بار بار تکرار سے کہتے رہے ہیں کہ اس میں حکومت کے ممبران کے ساتھ اپوزیشن کے لوگ جو کمیٹی ممبران تھے برابر کے شریک ہیں۔ کیسا سفید جھوٹ جو نواز لیگ حکومت کے وزیر عوام کے سامنے بول رہے ہیں۔ ان ہی دنوں میں اخبار میں امریکا کا یہ مطالبہ اخبارات میں بھی شائع ہوا تھا کہ اس قانون

ایک این جی اوز کے ذریعے قادیانیوں کو دے دیے گئے ہیں۔ غیاث الدین صاحب کہتے ہیں یہ معاملہ میں نے پنجاب کے وزیر تعلیم کے سانے اُٹھایا تو انہوں وعدے کے باوجود کچھ نہیں کیا تو میں نے اس معاملے کو پنجاب اسمبلی میں بھی اُٹھایا۔صاحبو! کچھ بھی ہو نواز شریف تحریک لبیک اور وزیر داخلہ کے درمیان فوج کی مدد سے معاہدے پر ناخوش ہیں۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں اپنی پارٹی میٹینگ میں وزیر داخلہ سے باز پرس بھی کی ہے۔اس سے نواز شریف کی طرف سے کی گئی سازش سامنے آ گئی ہے۔ نواز شریف صاحب عدلیہ اور فوج کو عوام کی طاقت کی سے ۲۰۱۸ء کے الیکشن میں دوبارہ کامیا ب ہونے کی نوید
کے سینیٹر اور امیرکی طرف سے دائر درخواست کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہاہے۔ پہلی پیشی پر ہی سپریم کورٹ نے حکومت اور نیپ کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ ضرور کرپٹ لوگوں سے پیسہ واپس لے کر عوام کے خزانے میں شامل کروائے گی۔ اس سے پاکستان کے قرضے ختم ہو جائیں گے نہ کہ

عیسائیوں کی خود کاشتہ پودے قادیانیوں کے خلاف قانون تبدیل کر کے قرضے معاف ہونگے۔ مسلمان حکمرانوں کو اپنا قبلہ مغرب سے تبدیل کر کے مکہ اور مدینہ کی طرف موڑ دینا چاہیے اس میں ان کے بہتری ہے۔ حکومت منظور شدہ شک ۷بی۔ ۷ سی کا گزٹ کو فوراً جاری کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں