وہ سنت نبوی ﷺ جو ہمیں تمام بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے؟ سائنسدانوں نے بھی تسلیم کرلیا

آپ کی چھینک یا کھانسی کے بعد بھی جراثیم فضاءمیں 45 منٹ رہ سکتے ہیں اور دیگر افراد کو اپنا شکار بنا سکتے ہیں.یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی.پرنس چارلس ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چھینک یا کھانسی کے ذریعے خارج ہونے والے جراثیم بارہ فٹ دور تک جاسکتے ہیں اور 45 منٹ تک وہاں موجود رہ سکتے ہیں.

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھینک آنے یا کھانسنے پر اپنے منہ کو ڈھانپ لینا دیگر افراد کو نزلہ زکام کے جراثیموں سے بچا سکتا ہے.یہ وہ احتیاط ہے جو سنت رسول ﷺ میں بھی ملتی ہے اور اس حوالے سے کئی احادیث بھی موجود ہیں،

یعنی طبی سائنس نے 14 سو سال بعد اس کا فائدہ تسلیم کرلیا ہے.اس تحقیق کے دوران جائزہ لیا گیا تھا کہ چھینک یا کھانسی کے دوران خارج ہونے والے جراثیم کس طرح طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں.

تحقیق کے مطابق بیماری سے اٹھنے والے افراد اس طرح کے جراثیم سے زیادہ جلد متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوچکا ہوتا ہے.محقیقن نے بتایا کہ جیسے ہی چھینک کے دوران خارج ہونے والا مواد ہوا میں جاتا ہے، وہ تیزی سے خشک، سرد اور ہلکا ہوجاتا ہے،

43-40-300x150
یعنی طبی سائنس نے 14 سو سال بعد اس کا فائدہ تسلیم کرلیا ہے.اس تحقیق کے دوران جائزہ لیا گیا تھا کہ چھینک یا کھانسی کے دوران خارج ہونے والے جراثیم کس طرح طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں.
تحقیق کے مطابق بیماری سے اٹھنے والے افراد اس طرح کے جراثیم سے زیادہ جلد متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوچکا ہوتا ہے.محقیقن نے بتایا کہ جیسے ہی چھینک کے دوران خارج ہونے والا مواد ہوا میں جاتا ہے، وہ تیزی سے خشک، سرد اور ہلکا ہوجاتا ہے،

43-1-17-300x160

جس کی وجہ سے وہ فضاءمیں موجود رہتا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے وال جراثیم انسانی نظام تنفس کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر امراض کا باعث بنتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں