نااہل سابق وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے حواری وزراء کے عدلیہ اور فوج پر سنگین الزامات ،سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

اٹک( آئی این پی) پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ و سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کی مضبوطی جمہوریت کے استحکام اور اداروں کی مضبوطی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، آج عدلیہ سے نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم اُن کی فیملی اور اُن کے چند حواری وزراء عدلیہ اور پاک فوج پر سنگین الزام لگا کر جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں،سائیکل چوری کرنے والے کی جگہ جیل ہوتی ہے،300 ارب ڈالر لوٹ کر ملک سے باہر لے جانے والا عدلیہ اور فوج کو تضحیک کا نشانہ بنا رہا

ہے،عدلیہ کمزور نہیں یہ کمزوری نیب میں ہے اگر کرپشن میں ملوث ملزم کراچی سے گرفتار ہو سکتا ہے تو پنجاب سے گرفتا ر کیوں نہیں ہو سکتا ، اس ضمن میں چیئرمین نیب کو اُس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کیلئے خط لکھ رہا ہوں جس طرح وکلاء نے عدلیہ بحالی تحریک میں کردار ادا کیا، اب پھر اور ایک تحریک کی ضرورت بڑھ رہی ہے، ہم ان اداروں کی مضبوطی اور استحکام کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہماری جدو جہد کے نتیجے میں آج مارشل لاء کی راہیں مسدود ہو چکی ہیں جمہوریت کو استحکام حاصل ہے، عدلیہ آزاد فیصلے کر رہی ہے۔وہ منگل کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اٹک میں وکلاء اور ضلع کونسل ہال میں پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ان تقاریب سے سینئر نائب صدر پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ ، صدر بار ملک اسرار احمد ایڈووکیٹ ، شیخ وقار عظیم صدیقی ، صحالحین مغل ایڈووکیٹ، صدر انجمن تاجران راشد الرحمن، صدر کے پی کے ،پی ڈی پی، لعل محمدنے بھی خطاب کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری بار سید فیصل بخاری ایڈووکیٹ اور صوفی محمد اشفاق ایڈووکیٹ نے انجام دیے اس موقع پر سابق صدور سید طاہر بخاری، رانا افسر علی خان، ممبر پنجاب بارکونسل انتظار مہدی نقوی، ناظر خان، نصیب اللہ، ملک نواز، حامد خان، آصف خان، ملک منور خان ایڈووکیٹ، لالہ ظہیر احمد خان ایڈووکیٹ، اورنگزیب خان ایڈووکیٹ، طلحہ محمود خان، بلال خان، ہدایت اللہ آفریدی، عارف رانجھا، جاوید کانسی، فہمیدہ بٹ سمیت وکلاء اورشہریوں و پارٹی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اٹک کے وکلاء اور اٹک کی عوام نے بحالی تحریک میں اہم کر دار ادا کیا جس میں شیخ احسن الدین ، جسٹس صداقت خان، شیخ اعجاز صدیقی، شیخ وقار عظیم صدیقی، ملک اسراراور ان کے دیگر وکلاء حضرات شامل تھے نے پورے ملک میں اس تحریک میں قربانی دی جبکہ اٹک کی عوام نے تاریخی استقبال کیا اور بحالی تحریک میں میرے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب کو شاندار بنا دیااس تحریک کا نتیجہ ہے کہ آج حکومتیں اپنی مدت پوری کرتی ہیں مارشل لاء اور ٹیکنو کریٹ حکومت کی دور تک کوئی گنجائش نہیں اب کوئی بھی جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اسمبلیوں میں بیٹھنے والے بھول گئے انہیں جو سہولتیں اور مراعات حاصل ہیں اور حکومتیں مدت پوری کر رہی ہیں یہ اس وکلاء تحریک کا نتیجہ ہے آمر وقت جو مکے لہراتا تھا آج منہ چھپاتا پھر رہا ہے عدلیہ آزاد ہو چکی ہے اور انصاف پر مبنی فیصلے کررہی ہے اب کوئی بھی جج غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کر ے گا جو ایسا کرے گا وہ آرٹیکل 6کے تحت سزا وار ہو گاانہوں نے کہا کہ جس طرح وکلاء نے عدلیہ بحالی کے لیے تحریک چلائی آج پھر وکلاء کے لیے امتحان کھڑا کر دیا گیا ہے یا ان پر امتحان آن پڑا ہے 9مارچ 2007اور 3نومبر 2007جس طرح وکلاء کمر بستہ ہو کر نکلے نظام عدل اور عدلیہ کی بالا دستی کی حفاظت کے لیے تحریک چلائی آج اس آزاد عدلیہ پر جمہوریت کے نام لیوا سنگین الزام لگارہے ہیں اداروں کو بدنام کر رہے ہیں اس کے لیے ہمیں ایک بار پھر میدان عمل میں نکلنا ہو گا اس نا ایل ہونے والے وزیر اعظم کو معلوم نہیں کہ عدلیہ کی بحالی اُن کی جدوجہد نہیں بلکہوکلاء کی جدو جہد سے ہوئی ہے افتخار چوہدری نے کہا کہ مجھے اسفند یار ولی کی یہ بات یاد آتی ہے کہ اُس نے کہا تھا کہ اصل تحریک تو وکلا ء چلارہے ہیں ہم تو ان کا سہارا بنے ہیں عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنانے والوں کو عدلیہ کا احترام کرنا چاہیے جب ان کے حق میں فیصلے ہوتے تھے تو یہ عدلیہ سے خوش تھے اب جب ان کے خلاف فیصلہ آیا تو یہ عدلیہ کے خلا ف ہو گئے ہیں آئین کی روسے نااہل وزیر اعظم کبھی بھی دوبارہ بحال نہیں ہو سکتا ڈکٹیٹر اس ملک سے اس لیے بھا گا ہے کہ اُسے پتہ ہے کہ اُس پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے جس میں اُسے سزا ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ آئین کے مطابق تیسرا اہم ادارہ ہےجو عدل فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے آج اسی ادارے کے سبب عدل و انصاف کی فراوانی اور عوامی حقوق کی پاسداری کی جارہی ہے مگر عدلیہ پر انگلی اُٹھانے والوں سے اُن کی رہبری میں قافلہ لٹنے اور اُن کی راہزنی کا سوال اُٹھایا جانا وقت کا تقاضا ہے اُن کے ایک ایک عمل اور گناہ نے انہیں نااہل اور مجرم ثابت کیا اس میں عدلیہ کی کمزوری نہیں ان کو سزائیں دینا ایگزیکٹو کا کام ہے اگر سندھ سے مجرم گرفتار ہو سکتا ہے تو پنجاب سے کیوں نہیں ان نااہل حکمرانوں کی جگہ اڈیالہ جیل تھی اس ضمن میں نیب کے چیئرمین کو خط لکھ رہا ہوں اس کی کاپی سپروائزری جج کو بھیج رہا ہوں کہ پاکستان میں پانچ سو روپے کیسائیکل چوری کرنے والا جیل میں ہوتا ہے جبکہ تین سو ارب ڈالر لوٹ کر باہر لے جانے والا دندناتا پھر رہا ہے اور عدلیہ کو گالیاں دیتا ہے ہم ایسے امیدوار سامنے لائیں گے جو مراعات نہیں مانگیں گے بلکہ پیدل اپنی انتخابی مہم چلائیں گے ہم نے اپنے دور میں عوام کو انصاف دینے کے لیے فوری ایکشن لیے اور عوام کو انصاف دلایا آج ڈیرہ اسماعیل خان میں شریفاں بی بی پر ظلم ہوا مگر اُسے کوئی انصاف دینے والا نہیں ہے ہماری پارٹی اُسے انصاف دلانے کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے گی عوام کو بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کو ووٹ دے جو کرپشن سے پاک ہوں اور انصاف کی فراہمی میں معاون ثابت ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں