’میں پاکستانی اوربھارتی شہریوں کو گھر کرائے پر نہیں دوں گا کیونکہ وہ کھانا بناتے ہیں تو۔۔۔‘ ایک ہزار گھروں کے مالک انگریز نے ایسی وجہ بتادی کہ آپ کو بھی ہنسی آجائے گی

اہل مغرب اعلیٰ تہذیبی اقدار اور انسانی مساوات کا ڈھنڈورا تو بہت پیٹتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سے زیادہ نسل پرست دنیا میں کوئی نہیں۔ ان کے نزدیک صرف سفید فام نسل ہی تہذیب و شائستگی کی علامت ہے اور غیر سفید فام لوگوں کا ان خصائص سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اسی منفی سوچ کی تازہ ترین مثال برطانیہ کی مشہور کاروباری شخصیت فرگوس ولسن نے قائم کی ہے، جس نے اپنی رئیل سٹیٹ کمپنی کو حکم جاری کردیا ہے کہ کسی بھی غیر سفید فام شخص، خصوصاً پاکستانی اور بھارتی شہریوں کو گھر کرائے پر نہ دیا جائے کیونکہ جب وہ گھر چھوڑتے ہیں تو ان کے مصالحہ دار سالن کی مخصوص بو ایک عرصے تک گھر سے ختم نہیں ہوتی۔

سکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق فرگوس ولسن نے اپنے اس فیصلے پر اظہار ندامت کی بجائے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ”سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں غیر سفید فام لوگوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔ کچھ خاص قسم کے غیر سفید فام لوگوں کا یہ مسئلہ ہے، جو مصالحے والے کھانے پکاتے ہیں، اس کی بو قالینوں میں گھس جاتی ہے۔ اس بو کا خاتمہ کرنے کے لئے کیمیکل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ بعض اوقات سنگین صورتحال میں قالین ہی بدلنا پڑجاتا ہے۔ “
رواں سال کے آغاز میں بھی فرگوس ولسن نے اس وقت ایک ہنگامہ کھڑا کردیا جب انہوں نے گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کو گھر کرائے پر دینے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”متاثرہ خواتین کے ناراض شوہر گھر میں
آکر توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور نقصان کا سبب بنتے ہیں۔“ انہوں نے تنہا والدین، کم آمدنی والے محنت کشوں، بچوں والے خاندانوں، پالتوں جانور رکھنے والوں، سگریٹ نوشوں اور تنہا رہنے والے افراد کے لئے بھی اپنے کرائے کے گھر ممنوع قرار دے رکھے ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے ایکویلٹی اینڈ ہیومن رائٹس کمیشن کی چیف ایگزیکٹو ربیکا ہلسن راتھ نے فرگوس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ”ہمارے معاشرے میں ابھی بھی عدم مساوات عام پائی جاتی ہے۔ ایک ملک کے طور پر ہم نے زمانہ جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ہمیں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم تحقیقات کریں گے اور مسٹر ولسن سے ان کے اقدمات کی وضاحت مانگیں گے۔ اگر ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو ہم ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کریں گے۔“ بدقسمتی سے فرگوس ولسن پر اس تنقید کا کوئی اثر نہیں ہورہا اور وہ اپنے افسوسناک و غیر اخلاقی فیصلے پر بدستور ڈھٹائی کے ساتھ قائم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں