قیام پاکستان سے قبل ریڈیو سٹیشنز میں کیا شرمناک کام ہوا کرتا تھا ؟ ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کے آنکھوں دیکھے تہلکہ خیز انکشافات

قیام پاکستان سے قبل ریڈیو سٹیشنز میں کیا شرمناک کام ہوا کرتا تھا ؟ ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کے آنکھوں دیکھے تہلکہ خیز انکشافات
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) قیام پاکستان سے پہلے جہاں جہاں ریڈیو اسٹیشن قائم تھے،انگریزوں اور ہندوؤں کا سکہ چلتا تھا،حتٰی کہ مسلم اکثریتی کلکتہ میں بھی یہ عالم تھا۔ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے متحدہ ہندوستان کے دوران کئی اسٹیشنز پر ریڈیو کی ملازمت کی اور وہاں کے حالات کو قریب سے دیکھا۔

انہوں نے اپنی آپ بیتی ”سرگزشت“ میں ریڈیو کلکتہ میں ہونے والی خرافات کا ذکربڑی آہ زاری سے کیاتھا۔ یہ تماش بینی کا مرکز تھا جہاں بدکاری عام تھی اور ایسے پروگرام پیش کئے جاتے تھے کہ کلکتہ کے مسلمانوں کو اپنی زبان اور عقائید بھول گئے تھے۔انگریز افسروں اورفنکاروں کے ریڈیو پروگرام شراب اور شباب کے بغیر پورے نہیں ہوتے تھے،

انگریزوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بدنظمی کے خلاف تھے لیکن کلکتہ ریڈیو اسٹیشن میں ہر طرح کی مادر پدر آزادی اور مالی بد عنوانی کی اجازت تھے۔زیڈ اے بخاری لکھتے ہیں ”ان دنوں کلکتہ کا ریڈیو گاسٹن پلیس کے انتہائی گندے اور تاریک مکان میں داد عشرت کا مرکز بنا ہوا تھا۔اسٹیشن ڈائریکٹر ایک انگریز تھا۔وہ الگ ہوا تو مجھے اسکی سیٹ ملی ۔
یہ شخص ہفتہ میں ایک ڈرامہ کیا کر تا تھا۔ تین گھنٹے کا۔ اس ڈرامے میں کردار کوئی پچاس ہوا کرتے تھے۔ ایک شخص آواز لگا رہا ہے ، سبزی لے لو سبزی۔ یہ کردار وہ شخص ادا کرتا تھا جس کے یہاں سے موجمدار کے گھر سبزی آیا کرتی تھی۔ ایک شخص آواز لگایا کرتا تھامچھلی لے لو مچھلی ، اس کی دکان سے موجمدار کے گھر مچھلی آیا کرتی تھی۔

عملہ میں کوئی مسلمان نہ تھا ، سب ہندو تھے ، پروگرام کے فنکار بھی سب ہندو تھے۔ ریڈیو سے آداب عرض وغیرہ نہیں بلکہ نمسکار کہا جاتا تھا، یہ تھی اس صوبے کی حالت جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ اس نمسکار پر میرا جی بہت کڑھا۔ دل نے کہا اگر نمسکار درست ہے تو السلام علیکم کو کیوں نادرست قرار دیا گیا۔
اب میں سرکاری ملازم، پٹیل وزارت نشریات کا وزیر، میں کرتا تو کیا کرتا۔ ترکیب میں نے یہ سوچی کہ مسلمان اخباروں سے مطالبہ کرایا جائے کہ نمسکار کے ساتھ اناؤنسر السلام علیکم بھی کہا کرے۔ یہ مطالبہ جب اخباروں میں چھپ جائے تو سرکار دہلی کو اس مطالبہ کی تائید میں خط لکھا جائے، پھر جو ہو سو ہو۔
میں ایک مسلمان اخبار نویس سے ملا، تمام معاملہ اس کو سمجھایا اور درخواست کی کہ اس نمسکار اور السلام علیکم کے مسئلے پر ایک آدھ مضمون لکھ دے۔ میری تجویز سن کر اس شخص نے جو کچھ کہا مجھے

اپنا تبصرہ بھیجیں