سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر نے قادیانیوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ۔۔ جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا مسرور احمد کیساتھ تصویر اپلوڈ کرتے ہوئے کیا بات کہہ دی ؟ مسلمان آگ بگولا

سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر نے قادیانیوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ۔۔ جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا مسرور احمد کیساتھ تصویر اپلوڈ کرتے ہوئے کیا بات کہہ دی ؟ مسلمان آگ بگولا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر نے قادیانوں کے حمایت کا اعلان کر دیا ۔ پاکستان بھر کی مذہبی جماعتوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ یادش بخیر ۔۔! وہ کیس تھا ایک مسیحی عورت آسیہ بی بی کا جس پر الزام تھا کہ اس نے نبی محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ۔

ملعونہ آسیہ بی بی جس نے عدالت میں اپنا جرم قبول بھی کیا اور قریب تھا کہ عدالت اسے سزا سنا دیتی مگر پھر اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر آڑے آئے اور آسیہ بی بی کو تحفظ فراہم کیا ۔ تب ایک نیا سلسلہ چلاجب سلمان تاثیر نے اسلامی قوانین کے مطابق توہین مذہب کے نام پر سزا کے قانون کو کالا قانون قرار دیا ۔
ان کا ماننا تھا کہ آسیہ بی بی معاشرے کی ستائی ایک مظلوم عورت ہے جس پر توہین مذہب کے تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں ۔ سلمان تاثیر کا یہ بیان دینا تھا کہ مذہبی جماعتوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور دین معلیٰ کے پہریدار حرکت میں آگئے ۔
گورنر کے خلاف فتوے دیے گئے جن کی اڑتی اڑتی بھنک سلمان تاثیر کی سیکیورٹی پر مامور ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار تک جا پہنچی ۔ ممتاز قادری نامی وہ پولیس اہلکار ایک سچاعاشق رسول بھی تھا ۔ ناموس مذہب پر حرف ممتاز کو گوار انہ ہوا اور اس نے سلمان تاثیر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا ۔

اس واقعے نے سلمان تاثیر کے لبرل گھرانے کو میڈیا کے ذریعے عوام الناس سے روشناس کروایا۔ مقتول سلمان تاثیر نے پسماندگان میں 7بچے چھوڑے جن میں سے ایک کا تذکرہ یوں بھی ضروری ہے کہ شان تاثیر نے حال ہی میں جماعت احمدیہ کے موجودہ خلیفہ مرزا مسرور احمد سے ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پیج پر لگاتے ہوئے ایک عوام کے نام ایک پیغام بھی دیا ہے کہ (خلافت احمدیہ زندہ باد ، ایک قوم ، ایک خون ، ایک پاکستان اور پاکستان سب کیلئے ہے )۔

واضح رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق احمدی غیر مسلم ہیںاور انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے ۔شان تاثیر کے اس پیغام اور مرزا مسرور احمد کے ساتھ تصویر اپلوڈ کرنے کے بعد پاکستان کے مذہبی حلقوں میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں