دنیا کا وہ واحد ملک جہاں گزشتہ 1400سال سے سحر و افطار سمیت نمازوں کے اوقات بھی ہمیشہ سے ایک ہی ہیں اور کبھی تبدیل نہیں ہوئے

دنیا کا وہ واحد ملک جہاں گزشتہ 1400سال سے سحر و افطار سمیت نمازوں کے اوقات بھی ہمیشہ سے ایک ہی ہیں اور کبھی تبدیل نہیں ہوئے
یوگنڈا خط استوا پر واقع ہے جہاں سال بھر کے تمام مہینوں میں دن اور رات کے اوقات میں کوئی فرق نہیں ہوتا ، موسموں کی تبدیلی بھی اوقات کی تبدیلی پر اثرا انداز نہیں ہوتی.غیر ملکی میڈیا کے مطابق جیسے جیسے ہم قطب شمالی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے دن بڑا اور رات مختصر ہوتی جائے گی.

اس کے برعکس قطب جنوبی کی جانب سفر کرنے سے دن چھوٹا اور رات طویل ہوتی جاتی ہے.اس کے ساتھ ساتھ سال کے چاروں موسم بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں. ہرسال روزے کے مختلف اوقات کی بحث کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کا ایک ایسا ملک بھی کرہ ارض پرموجود ہے جس میں اسلام کی آمد کے بعد سے اب تک روزے کا وقت تبدیل نہیں ہوا.یہ شمالی افریقا کا ملک یوگنڈا ہے جس میں دخول اسلام
کے بعد اب تک ہر سال وہاں کے مسلمان 12 گھنٹے کا روزہ رکھتے ہیں . ایسا اس لیے ہے کیونکہ یوگنڈا خط استوا پر واقع ہے جہاں سال بھر کے تمام مہینوں میں دن اور رات کے اوقات میں کوئی فرق نہیں ہوتا . موسموں کی تبدیلی بھی اوقات کی تبدیلی پر اثرا انداز نہیں ہوتی.

یوگنڈا اگرچہ مسلمان ملک نہیں مگر وہاں پر مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے جو کل آبادی کا 27 سے 30 فی صد ہیں . یوگنڈا کے مسلمان نہ صرف ہرسال ایک ہی وقت میں روزہ رکھتے اور افطار کرتے ہیں بلکہ ان کی نمازوں کے اوقات بھی تبدیل نہیں ہوتے.جبکہ بعض خطوں میں دن بہت لمبا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں روزے کا دورانیہ بھی طویل ہوتا
ہے. جیسے جیسے ہم قطب شمالی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے دن بڑا اور رات مختصر ہوتی جائے گی. اس کے برعکس قطب جنوبی کی جانب سفر کرنے سے دن چھوٹا اور رات طویل ہوتی جاتی ہے. اس کے ساتھ ساتھ سال کے چاروں موسم بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں اس لئے ان علاقوں میں نمازاورروزے کے اوقات کاریکساں نہیں رہتے اورتبدیل ہوتے رہتے ہیں .

ختم نبوت قانون میں ترمیم کے ذمہ داران کو سزادی جائے
واہ ری حکومت اورواہ رے ہمارے ’’آزاد‘‘ لبرل میڈیا۔ڈیڑھ ماہ پہلے جب قومی اسمبلی کے چندارکان نے انکشاف کیا کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کے بل کی آڑ میں ختم نبوت کاایک حلف نامہ حذف کردیاہے توحکومتی وزراء خصوصاً وزیرقانون زاہدحامد بڑے اہتمام سے کہہ رہے تھے کہ ایسی کوئی تبدیلی سرے سے ہوئی ہی نہیں‘ پھرجب عوام کا دباؤ اس مسئلے پرکچھ اٹھتامحسوس ہواتوپھر پہلے اتنااقرار کیا گیاکہ تبدیلی کچھ ہوئی توہے لیکن یہ تبدیلی ایسی نہیں کہ جس سے ختم نبوت یاحلف نامے پرکچھ اثرپڑاہو۔ان کاکہناتھا کہ حلف نامے کے نئے الفاظ کامطلب بھی وہی ہے جو پرانے الفاظ کاتھا ‘اس لیے ایساکوئی سرے سے مسئلہ ہی
نہیں لیکن جناب نوازشریف نے جلدمحسوس کرلیاکہ چوری تواب پکڑی گئی ہے اوراس پرمحض آئیں بائیں شائیں یا وضاحتوں سے مسلمانانِ پاکستان کو مطمئن نہیں کیاجاسکتا۔چنانچہ انہوں نے فوری طورپریہ ترمیم واپس لینے اورحلف نامہ کے پرانے الفاظ بحال کرنے کا حکم دے دیا لیکن حقیقت یہ تھی کہ اب بھی صرف اتنی ہی چوری کااعتراف کیاگیا جتنا’دنیاکو پتہ چل گیاحالانکہ چوری اورتحریف وترمیم اس سے کافی زیادہ ہوئی تھی۔ اگرچہ حلف نامہ کے پرانے الفاظ یعنی Swear I اورoath کوبحال کیاگیا اور I Declare اور Affirmationکے الفاظ کوختم کردیاگیا لیکن ابھی ختم نبوت سے متعلق آٹھ دوسرے متعلقہ قوانین مزیدبھی تھے جو منسوخ کیے گئے تھے۔

اس دوران تحریک لبیک والوں نے راولپنڈی ‘اسلام آباد کے درمیان ایک دھرنے کاآغاز کیا‘دھرنے والوں نے اگرچہ ایک زبردست دھرنا دے کرحکومت پردباؤ بڑھایالیکن شاید انہیں بھی پوری طرح معلوم نہیں تھا کہ ختم نبوت کے قانون میں کیاکیا نقب اور ڈاکے ڈالے جاچکے ہیں۔ ان کااول وآخر ایک ہی مطالبہ تھاکہ وزیرقانون زاہدحامد استعفیٰ دیں لیکن چند دوسرے دینی سیاسی حلقوں کواندازہ ہوگیاتھاکہ ڈاکہ صرف حلف نامہ تک نہیں ماراگیا بلکہ معاملہ اس سے وسیع تراورگھناؤنا ہے جس کااظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے شروع دن سے کردیاتھا۔ حکومت نے ختم نبوت سے متعلق 7B اور 7C سمیت کئی دوسرے قوانین بھی ختم کردئیے تھے۔چنانچہ ختم نبوت کے سارے قوانین کی بحالی کے لیے تحریک حرمت رسول، جماعۃ الدعوۃ ‘جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ اور دیگر کئی دینی سیاسی جماعتوں نے بھی بھرپور آواز اٹھانا شروع کر دی۔

یہ تحریک ابھی جاری تھی کہ اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس محترم شوکت صدیقی نے ختم نبوت سے متعلق 7B اور 7C سمیت تمام پرانی شقوں کوبحال کرنے کاحکم دے دیا۔اس سے بات اچھی طرح ثابت اور واضح ہوگئی کہ معاملہ صرف حلف کی حدتک کی شق کی تبدیلی کانہ تھا بلکہ ختم نبوت سے متعلق کئی دیگرقوانین کوبھی نشانہ بنایاگیاتھا۔ان میں سے ایک وہ قانون تھا جس میں رائے دہندہ کوبھی ایک حلف دیناہوتاہے کہ وہ ختم نبوت پرایمان رکھتا ہے۔عام انتخابات آرڈر 2002ء میں یہ کہاگیا تھا کہ اگرکسی فردنے مسلم رائے دہندگان کی فہرست میں اپنانام درج کرایاہے اور اس کے خلاف یہ شکایت کی جائے کہ وہ مسلمان نہیں ہے تو ریوائزنگ اتھارٹی اسے پندرہ دن میں طلب کرکے یہ حلف لے کہ وہ ختم نبوت پرایمان رکھتاہے ۔دوسری صورت میں اس کانام غیرمسلموں کی فہرست میں درج کیاجائے گالیکن خاموشی کے ساتھ یہ شق بھی انتخابی ایکٹ 2017ء کے ذریعے نکال دی گئی۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں اورمولویوں کی مخالفت میں حکومت کی مخالف سیاسی جماعتیں اور حکومت کامخالف میڈیابھی حکومت کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ ہے ان کی’’ آزادی ٔرائے‘‘ اوران کا’’انصاف‘‘…… لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اگرمذہبی جماعتیں اور تحریکیں حکومت پر اس قدردباؤ نہ ڈالتیں توحکومت نے نہ تو اپنی چوری اور ڈاکے کااعتراف کرناتھااور نہ ختم نبوت کے تمام قوانین کو اس طرح بحال کرناتھا جس طرح وہ اب عوامی دباؤ پر بحال کرنے پرمجبو رہوئی ہے۔ اب حکومت کوچاہیے کہ جب اس کی چوریاں اور ڈاکے ثابت ہوچکے اوروہ ان کاعملاًاعتراف بھی کرچکی تواس
ڈاکے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ کسی کو ختم نبوت میں معمولی شگاف ڈالنے کی بھی جرأت نہ ہو۔ اگرحکومت اب یہ اقدام نہیں کرتی اور ذمہ دار مجرموں کوقرار واقعی سزانہیں دیتی تو وہ دراصل اپنی قبر خود ہی کھودے گی۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کے ذمہ داروں کوسزا دی جائے ورنہ حالات پہلے سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو عقل ‘سمجھ دے اور غیرجانبدارنہ و منصفانہ اور اسلامی غیر تمندانہ کرداراداکرنے کی توفیق دے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں