دماغی تھکن والوں کے لئے خوشخبری ،ایسا آسان علاج کہ وہ بھول جانے کی بیماری سے بھی بچ سکتے ہیں

دماغی تھکن والوں کے لئے خوشخبری ،ایسا آسان علاج کہ وہ بھول جانے کی بیماری سے بھی بچ سکتے ہیں
آپ کا دماغ جلد تھک جاتا ہے ، اسکو تروتازہ رکھنےکے لئے آپ کسی دوا اور ورزش کے بغیر یہ نعمت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک طریقہ ہے جو صدیوں پرانا ہے اور قدرتی طور پر ہر انسان کے اندر اسکا ایک مکینکل میٹر لگا ہوا ہے

جس کو چلانے کی ضرورت ہے۔جو انسان بھی اس میٹر کو جتنا چلاتا ہے اسکا دماغ اتنا ہی تروتازہ رہتا ہے۔پرانے اطبا جب کسی مریض کو افسردہدیکھا کرتے تھے تو اسکو ہنسنے اور قہقے لگانے کی تجویز دیتے اور اسکے اہل خانہ سے کہا کرتے تھے کہ اسکو خوش رکھنے کی کوشش کیا کریں ۔
طب کے اصولوں کے مطابق پائیدارخوشی کا تعلق انسان کے دماغ کے اندر موجود کیمیائی مادوں سے ہوتا ہے جو خوش رہنے والوں میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں لیکن کسی غم زدہ انسان میں یہ کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔آج جدید سائنسی تحقیقات اصول طب کے اس نظرئےے کو سراہ رہی ہیں۔
ال ہی میں لوما لنڈا یونیورسٹی ساوتھ کیلی فورنیا میں ذہنی تھکن کے مریضوں پر تجربہ کیا گیا اور انہیں بیس منٹ تک مزاحیہ وڈیوز دکھائی گئیں تو بعد ازاں انکے معائنہ سے یہ بات سامنے آگئی نسنے سے ان کی دماغی صحت پراچھا اثر ہوا ہے۔ ہنسنے سے انکے برین سیلز نے یادداشت بہتر بنانے والے ہارمونز پر خوشگوار اثرات چھوڑے ۔محقق ڈاکٹر گورنڈر ایس بینز کا کہنا ہے کہ اپنے دوستوں یا اہل خانہ کے ساتھ بیس منٹ تک مزاحیہ پروگرام دیکھنے سے ایلزائمر کا بھی
علاج کیا جاسکتا ہے ۔افسردہ رہنے والوں کے دماغی سیلزبری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں جو ہنسنے اور قہقہ لگانے سے بتدریج بہتر ہوجاتے ہیں اور یادداشت کی کمزوری اور دماغی نقاہت ختم ہونے لگتی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ قہقہہ لگانے سے دماغ میں جب ڈوپامائن کا مادہ داخل ہوتا ہے تو اس سے اینڈورفاینز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دماغ کو خوشی مہیا کرتا ہے۔جبکہ اس سے دماغ کے امیون سسٹم کی کارکردگی نہایت اچھی ہوجاتی ہے۔سائنسی طبی تحقیقات کے مطابق جو انسان نقصان میں بھی ہنسنا سیکھ لیتا ہےاسکی کھوئی ہوئی اور کمزور ہوتی ہوئی یادداشت بہتر ہونے لگتی ہے۔ موجودہ دور میں ہنسنے یا قہقہے نہ لگانے والے دماغی تھکن اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس کا بہترین علاج یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مصنوعی طور سے ہی سہی،انسان کو ہر حال مین ہنسنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں