جنت کا میوہ زمین والوں کے اللہ کی نعمتوں کی نشانی ثابت ہوتا ہے

جنت کا میوہ زمین والوں کے اللہ کی نعمتوں کی نشانی ثابت ہوتا ہے
جنت کا میوہ زمین والوں کے اللہ کی نعمتوں کی نشانی ثابت ہوتا ہے. بہت سے پھلوں اور سبزیوں کی طرح نہایت عام سی سبزی کدو بھی جنت کی سوغات ہے . ایک حدیث میں ہے کدو اور خرما دونوں جنت کے میوے ہیں. کدو زمین پر بھی عام ہے اور جنت کا تو خاص میوہ ہے جو اہل بہشت کو کھانے میں ملا کرے گا.

ایک دوسری حدیث کے مطابق کدو سے دماغ کو طاقت ملتی ہے. ایک اورحدیث میں ہے کہ کدو بصارت کو قوی اور قلب کوروشن کرتا ہے .جس سبزی کی اللہ اور اسکے رسول ﷺنے اتنی خوبیاں بیان کی ہوں سوچئے کہ اسکی قدروقیمت کا عالم کیا ہوگا.اس سے بیش نعمت اور کیا ہوسکتی ہے کہ لوگ کدو کھا کر ثواب بھی کمائیں اور صحت بھی بڑھائیں .
لوکی، کدو کو عربی میں یقطین کہتے ہیں. قرآن مجید واحادیث میں اسکا ذکر یقطین کے نام سے ملتاہے . صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ کے ہمراہ میں بھی تھا.

ایک داعی نے آپﷺ کی خدمت اقدس میں جو کی روٹی اور خشک گوشت اور کدو کا بناہو سالن پیش کیا‘ میں نے کھانے کے دوران رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ پیالے کے اردگرد سے کدو تلاش کرکے کھا رہے تھے. اسی روز سے میرے دل میں کدو کی رغبت پیدا ہوگئی“.

حضرت عائشہؓ کا فرمان ہے کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہؓ جب تم کوئی ہانڈی پکانے کے لئے تیار کرو تو اس میں زیادہ مقدار میں کدو ڈال لو اس لئے کہ کدو رنجیدہ دلوں کو مضبوط کرتاہے.حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کثرت سے کدو کا استعمال فرماتے تھے.طب میں کدو کے خواص پر کافی بحث ہوئی ہے.

یہ سردتر ہوتا ہے. اس کو جس چیز کے ساتھ استعمال کیا جائے ہضم ہونے کے بعد اسی میں تبدیل ہوجاتاہے.اگرگوشت کے ساتھ پکایا جائے تو گوشت کی افادیت دوبالا کرتا اور ہاضم بنا دیتا ہے. رائی کے ہمراہ اس کو استعمال کریں تو خلط حریف پیدا ہوگی‘ اور اگر نمک کے ساتھ کھائیں تو نمکین خلط ہوگی اور اگر قابض چیز کے ساتھ کھائیں توقابض خلط میںتبدیل ہوگا اور اگر بہی کے ساتھ اس کو پکا کر استعمال کیا جائے تو بدن کوعمدہ غذائیت بخشتا ہے.

نبی ﷺ سے عقیدت اطاعت میں کیوں نہیں ڈھل پائی

میں اپنی حیات صرف کرتے رہے۔ دوسرئے انبیاء بے شک ا? پاک کی طرف سے مبعوث ہوئے اور اپنے اپنے دائرہ کار، علاقے میں اپنے فرض کی ادا ئیگی کرتے رہے۔ ایسا بھی ہوتا رہا کہ ایک ہی وقت میں کئی نبی معبوث کیے گئے۔لیکن جب تاجدار ختم نبوت نبی پاک ﷺ مبعوث ہوئے تو اُس وقت کائنات کے ایک ایک ذرئے کے لیے آپ ﷺ کی رسالت رحمت بنی۔ رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفےﷺ کی نبوت کا دائرہ کار تمام زمینوں اور تمام آسمانوں اور ایک ایک انسان، چرند پرند،حتی کے درختوں پر الغرض جس طرح اﷲ پاک بغیر کسی دوسرئے کے شریک کے رب ہے اِسی طرح نبی پاکﷺ کو جس وقت مبعوث کیا
گیا اُس وقت صرف اور صرف آپ ہی اﷲ پاک کے نبی اور رسولﷺ ٹھرئے۔اور نبی پاک ﷺ کا رحمتِ دوعالم ہونا اور قیامت تک آپﷺ کا ہی نبی ورسولﷺ قرار پانا درحقیقت عظمت مصطفے ﷺ کی دلیل ہے کہ جس طرح ہمارا رب یکتا ہے اِسی طرح جس نبی پاکﷺ کی غلامی کا دعویٰ مسلمان کرتے ہیں وہ بھی اپنے تمام تر کمال میں بالکل یکتا اور بے مثال ہے۔نبی پاک ﷺ کی رحمتیں سارئے جہانوں پر ہیں اور نبی پاکﷺ کو اﷲ پاک نے قاسم کے رُتبے پر سرفراز فرمایا ہے کہ نبی پاکﷺ اﷲ پاک سے لے کر تقسیم فرماتے ہیں۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ایک رب ایک

آپ پر غم کے پہاڑ گر پڑئے۔آپ ﷺ وادی طائف میں تبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے ہیں تو مشرکین آپ پر سنگ باری کرتے ہیں آپ ﷺ لہو لہان ہو جاتے ہے حتی کہ آپ کے نعلین مبارک میں خون بھر جاتا ہے۔اﷲ پاک فوراً جبریل امینؓ کو بھیجتے ہیں اور وہ آکر کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ فرمائیں تو پوری طائف کی وادی کو نیست و نابود کردیتے ہیں لیکن آقاکریمﷺ فرماتے ہیں کہ نہیں میں تو رحمت ِ عالم ہوں اِن لوگوں کو نہیں پتہ کہ میں اُن کا کتنا خیر خوا ہ ہوں-
دین اسلام کی حقانیت کے حوالے سے تو سب مسلمان عقیدت و احترام کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں لیکن یہ عقیدت در حقیت صرف زبانی کلامی ہے۔نبی پاکﷺ سے محبت کا دعویٰ اور اِس عقیدت اور محبت کا یہ عالم کہ یہ عقیدت عمل میں نہیں ڈھل پارہی۔مسلمانوں کی سابقہ تاریخ عدل وا نصاف کے عظیم ستونوں پر کھڑی ہے اور موجودہ حالات میں مصر، افریقہ کے دیگر ممالک، لیباء، شام، فلسطین نوحہ کناں کیوں ہے۔ وجہ صرف یہ ہی ہے کہ اﷲ سے محبت اور نبی پاکﷺ سے محبت کا دعویٰ اخلاص سے خالی ہے مطلب یہ کہ یہ دعوئے عمل میں نہین ڈھل پارہے۔مثال کے طور پر اگر ہم کسی مرض میں مبتلا ہیں اور
ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ معاشرئے کے ہر شعبے کے دیوالیہ پن نے آج ہمیں اُس مقام پر لاکھڑ کیا ہے جہاں پر ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے۔کسے بدلیں گئے حالات۔علماء، اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلاء، تاجر تو معاشی حثیت کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں تو پھر کو نسی ایسی قیادت قوم کو میسر آسکتی ہے جو کہ کھوئی ہوئی میراث واپس لا سکے۔ جو اطیوا ? و اطیوالرسولﷺ کی کسوٹی پر پوری اُترتی ہو۔جو جعلی ڈبہ پیروں کے چنگُل سے آزاد ہو۔ جس کی سوچ کے تانے بانے صرف اُمت کی یکجہتی سے وابستہ ہوں۔جو بھی پارٹی اِس وقت سیاست میں ہے خواہ وہ مذہبی جماعتیں ہیں یا اُن کا انداز سیاست لبرل ہے۔سب اِس وقت

عہدوں کے لالچ میں ہیں۔نام نہادعلماء اور سیاسی رہنماء جب پروان چڑجاتے ہیں تو تب اُن کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں انہیں انسانیت سے دور اور مادیت کے نزدیک کر دیتی ہیں۔راقم کے ساری آہ وپکار صرف اِسی نقطے پر آکر ٹھر جاتی ہے کہ قحط الرجال کے اِس دور میں کون ہے جو آگے بڑھ کر پاکستانی معاشرئے کی زبوں حالی کا علاج کر سکے۔جو احباب دین کی تبلیغ کے ساتھ وابستہ ہیں وہ سیاست کو شجرِ ممنوعہ سمجھتے ہیں اور سیاست کے روایتی کھلاڑی دینی طبقے کا سیاست میں آنا ناگوار سمجھتے ہیں۔ پاکستانی نوجوان نسل بے روزگاری کی ایسی چکی میں پس رہی ہے کہ اِس نسل کو ملک کے معاملات سیاست
سے دور کر دیا گیا ہے۔ماضی میں جو مذہبی طبقہ جات جن کا سیاست میں کا فی اثر تھا جیسے کہ مولانا شاہ احمد نورانی ؒ کی جماعت، جمیت علمائے پاکستان، جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام اور تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ۔ اِن جماعتوں کی نفوذ پزیری کافی حد تک تھی لیکن فی زمانہ یہ جماعتیں اب اپنے فعالیت کھو چُکی ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں