بیو ی اگر مر جائے تو کیا اس کے ساتھ جنسی عمل جائز ہے ؟ عرب کے معروف عالم نے فتویٰ دیدیا ۔۔ عالم اسلام میں شدید ہلچل مچ گئی

بیو ی اگر مر جائے تو کیا اس کے ساتھ جنسی عمل جائز ہے ؟ عرب کے معروف عالم نے فتویٰ دیدیا ۔۔ عالم اسلام میں شدید ہلچل مچ گئی
مصر میں جامعہ ازہر کے ایک عالم کی جانب سے جاری انوکھے اور غیر مانوس نوعیت کے فتوے نے ملک میں وسیع پیمانے پر تنازع اور عوامی حلقوں میں شدید غصے کی لہر پیدا کر دی ۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب مصری اخبار نے جامعہ ازہر میں تقابلِ فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر صبری1عبدالرو ¿وف سے ایک متنازع فتوی منسوب کیا جس میں مذکورہ اسکالر کا کہنا تھا کہ شوہر کی اپنی فوت ہو جانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت یا ازدواجی تعلق حلال ہے اور اس کو زنا شمار نہیں کیا جائے گا۔
ایسے شخص پر کوئی حد یا سزا جاری نہیں ہو گی کیوں کہ شرعی طور پر یہ عمل حرام نہیں ہے اور فوت ہونے والی عورت واقعتا اس کی بیوی ہے۔ البتہ مذکورہ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صبری کا کہنا تھا کہ یہ عمل معاشرتی طور پر پسندیدہ نہیں ہے۔اس فتوے نے مصر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دی اور جامعہ ازہر اور اوقاف کے علماءاس کا جواب دینے اور اس کو حرام قرار دینے کے لیے میدان میں آ گئے۔
مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ کا کہناتھا کہ ماضی میں بھی ایسے فتوے جاری کیے جا چکے ہیں جن پر ان کے شدید غم و غصے کے جذبات پیدا ہوئے۔ وزیر اوقاف نے حالیہ فتوے کو آفت نما شے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دین اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف ایک جرم ہے اور جو کوئی بھی ایسی گھناو ¿نی حرکت کرے گا

وہ انسانوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ادھر جامعہ ازہر نے متنازع فتوی جاری کرنے والے اسکالر کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا۔ جامعہ ازہر کے نائب سربراہ ڈاکٹر احمد حسنی نے بتایا کہ جامعہ کی طرف سے ڈاکٹر صبری عبدالرو ¿وف کو تحقیقات کے لیے بلایا جائے گا تا کہ ان سے معلوم کیا جا سکے کہ اس فتوے میں انہوں نے کون سی شرعی دلیل کو بنیاد بنایا ہے۔

دوسری جانب صاحبِ فتوی نے اس متنازع رائے سے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق انہوں نے ایسی بات نہیں کہی اور ان کی بات کو سیاق سے قطع کر کے شائع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق وہ تو ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے

جو اس حوالے سے پوچھا گیا تھا کہ ایک عرب عالم نے فتوی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس عمل کو جائز قرار دیا۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق یہ عمل شرعا حرام ہے تاہم وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اخبار کے حوالے سے یہ فتوی سوشل میڈیا پر ان سے منسوب کر کے پھیلایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں