انگوٹھی کی گمشدگی

انگوٹھی کی گمشدگی
حضرت عثمانؓ نے اہل مدینہ کے لیے پانی پینے کا ایک کنواں کھدوایا. ایک دفعہ آپؓ اس کنویں کے سرے پر بیٹھے ہوئے اس انگوٹھی (کو جوحضورؐ نے خطوط پر مہر ثبت کرنے کے لیے بنائی تھی.

بعد ازاں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بطور مہر استعمال کیا. آپؓ کے بعد حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں استعمال کیا اور اب حضرت عثمانؓ کے پاس تھی) کو حرکت دے رہے تھے اور اسے اپنی انگلی میں گھما رہے تھے کہ

انگوٹھی ان کے ہاتھ سے نکل کر کنویں میں گر گئی. لوگوں نے کنویں میں اس کو بہت تلاش کیا یہاں تک کہ اس کاسارا پانی نکلوا دیا پھر بھی اس کا سراغ نہمل سکا. بعد میں حضرت عثمانؓ نے اعلان کیا جو بھی شخص اس انگوٹھی کو لے کر آئے گا. اسے بھاری رقم دی جائے گی. آپؓ کو اس خاتم مبارک کے گم ہونے کا بہت رنج و غم ہوا. اور اس کی تلاش میں سرگرداں رہے. تلاش بسیار کے بھی آپ کو وہ انگوٹھی نہ ملی اور جب آپ ہر طرح سے مایوس ہو گئے
تو آپ نے اس جیسی چاندی کی انگوٹھی بنوانے کا حکم دیا. چنانچہ ہوبہو ویسی ہی انگوٹھی بنائی گئی اور اس پر محمد رسول اللہؐ کندہ تھا. آپؓ نے اسے اپنی انگلی میں پہن لیا. جب آپ کو شہید کیا گیاتو وہ انگوٹھی بھی غائب ہوگئی اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون اس انگوٹھی کو لے گیا.

اوصاف

اوصاف آفس میں پہنچ چکا تھا۔ وہ اپنے خیالات کو پرگندہ خیالات میں الجھنے نہیں دیتا تھا۔ شواف سے متعلقہ کوئی خیال وہ اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا تھا۔ عامر نے آ کر اسے نئے ملنے والے پروجیکٹ کی تفصیل بتائی ۔ اس کی کمپنی کاغذ کی ترسیل کے کام سے منسلک تھی۔ اسے یہ کام وراثت سے ملا تھا۔ اگرچہ وہ اس کام کو بہت محنت سے کرتا اور کرواتا لیکن اسے پروفیسر بننے میں دلچسپی تھی۔ اس نے ایک کمرہ سٹڈی کے لیے مختص کیا ہوا تھا۔ وہ دن میں تین گھنٹے لازمی سٹڈی کرتا ۔

عامر نے اس کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔ تمہارا مطلب ہے کہ ہم سب بااختیار ہیں ؟تم اس لیے ایسا سوچتے ہو،کیوں کہ تم نے غربت کی زندگی نہیں دیکھی۔ سڑک پر سر کھجاتے ہوئے بیکاری ، کس قدر بااختیار ہوتے ہیں ،اس کے چہرے پر ہنسی تھی ،اس کا لہجہ تمسخر خیز تھا۔ اوصاف نے انتہائی سنجیدگی سے اس کی نظر میں دیکھا اور پورے یقین سے کہا۔ بے شک انسان مجبور محض نہیں ۔ رب نے ہر کسی کو صلاحیتوں سے نوازہ ہے ۔ ہم جب محنت سے دور بھاگتے ہیں تو پھر سر کھجانا ہماری قسمت ٹھہرتا ہے ۔ امارت اور غربت اہم نہیں ۔ اہم بات تو یہ ہے کہ انسان کس حد تک خواب دیکھ سکتا ہے۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کس حد تک محنت کر سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جن بیکاریوں کی تم بات کر رہے ہو ۔ ان میں سے اسی فی صد صرف یہ ہی سوچتے ہیں کہ پیسے مانگنے کا وہ طریقہ سیکھیں جو لوگوں سے ذیادہ پیسے نکلوانے کا باعث بنے ۔
عامر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔ وہ خواہ کیسی ہی محنت کر لیں ۔گھر تھوڑا ہی لے سکتے ہیں ۔ اوصاف نے دھیمے لہجے میں کہا بات گھر لینے کی نہیں ،مجبور ہونے کی ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگوں کے گھر نہیں ہوتے ۔ نہ ہی وہ بہت مالدار ہوتے ہیں ،لیکن وہ بہت بااختیار ہوتے ہیں ، مجھ سے اور تم سے کہیں ذیادہ ۔ ان کے پاس لوگ جا کر اپنی مجبوریوں کا رونا روتے ہیں ۔ یہ رونا صرف اور صرف اپنی ذات کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں ۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔انسان اپنی ذات پر بروسہ کیسے چھوڑ سکتا ہے جبکہ رب نے تو ہر پل ساتھ رہنے اور ساتھ دینے کی نوید دی ہے۔
عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ یار تمہیں تو مثبت سوچ پھیلانے کے لیے سیمینار کرنے چاہیں ۔ اوصاف کے چہرے پر ہنسی پھیل گئی ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں ۔ تھوڑا علم میں اضافہ تو ہو۔ یہ خدمت بھی کریں گئے ۔ آپ جیسے لوگوں کی۔
شواف اوصاف کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ آ ج وہ اپنی ہر غلطی کا اعتراف کر کے اوصاف سے الگ ہونے کا مطالبہ کرئے گی۔ شواف سوچ رہی تھی ، ساری عمر جس طرح اس کے ماں باپ نے گزاری ہے وہ نہیں گزار سکتی ۔ وہ لگا تار اوصاف سے بات کرنے کی ہمت لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ جیسے جیسے وہ سوچتی ۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگتے تھے۔
دروازے پر دستک ہوئی ۔ وہ اپنے چہرے کو صاف کر کے باہر گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں