یا اللہ کسی بیٹی کیساتھ ایسا نہ ہو ۔۔ کراچی کی حافظ قرآن نویں جماعت کی لڑکی سمیرا کیساتھ سندھ پولیس کا شرمناک سلوک ۔۔ جان کر آپ بھی کانپ اٹھیں گے

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کی حافظ قرآن سمیرا آج بھی انصاف کی منتظر ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کی رہائشی سمیرا ڈھائی سال قبل نویں جماعت کا امتحان دینے گئی لیکن واپس نہیں آئی۔ سمیرا کی گمشدگی پر مدینہ کالونی تھانہ میں 2015/90 پرچہ درج ہوا۔ 15 دن بعد سمیرا نے فون کال کرکے ماں کو مدد کے لئے کہا تو پتہ چلا کہ ایڈریس منڈی بہاؤالدین چک مانو کا ہے،

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے کارروائی کے لیے تین لاکھ روپے مانگے گئے۔ غریب ماں رقم نہ دے سکی تو خود بیٹی کی مدد کے لئے پہنچی لیکن کچھ نہ کر سکی۔سمیرا کی والدہ نے کہا کہ میں نے پولیس کو بتایا تھا کہ میرے شوہر مجھے چھوڑ چکے ہیں ، میں بیوہ جیسی ہوں میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے آپ کچھ کم کر دیں۔ پولیس نے کہاکہ آپ ایسا کریں کہ پھر یہ ایڈریس لیں اور خود ہی چلی جائیں جس کے بعد میں نے اپنے کزن کو فون کیا ۔

جب وہاں پہنچے تو وہ کوئی حویلی تھی ، اس گاؤں کا ایک بہت بڑا چودھری تھا جس نے مجھے پانچ دن کا ٹائم دے دیا تھا۔میری سمیرا سے 2 سیکنڈ کی ملاقات بھی کروائی گئی جس میں سمیرا نے مجھ سے کہا کہ ماما مجھے بچا لو ، مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ والدہ نے بتایا کہ سمیرا کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ تو کبھی دوپٹے کے بغیر اور برقعے کے بغیر بھی گھر سے نہیں نکلی تھی۔

پیسے نہ ملنے پراغوا کاروں نے سمیرا کو چھوڑنے سے انکار کر دیا جس کے بعد 16 برس کی سمیرا جان سےہاتھ دھو بیٹھی۔ سمیرا کی والدہ نے انصاف کے لیے اپنا دوپٹہ پھیلا لیا اور چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں