نکاح ہو گیا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس گئے تو حیران، چاند کا ٹکڑا

ایک بزرگ نہر کے کنارے جا رہے تھے، ان کو بھوک بھی لگی ہوئی تھی، مگر فقیر بندے تھے خرچ کرنے کے لیے پاس کچھ تھا نہیں، نہرمیں ایک سیب دیکھا جو بہتا ہوا جا رہا تھا انہوں نے سیب لیا اور اس کو کھا لیا، بھوکے بندے کی تو سمجھ بھی کام نہیں کرتی۔پیٹ نہ پیا روٹیاں تو دے گنا کھوٹیاں۔کھانے کے بعد خیال گزرا کہ یہ سیب تو میرا نہیں تھا، یہ تو کسی اور کا تھا، میں نے بغیر اجازت کھا لیا، مجھے اس بندے سے یا تو معافی مانگنی ہے یا قیمت ادا کرنی ہے،چنانچہچنانچہ جدھر سے پانی آ رہا تھا (اسٹریم، Stream) ادھر جانے لگے، آگے کچھ دور جانے کے بعد دیکھا کہ ایک باغ ہے، جس میں سیب کے درخت ہیں، سمجھ گئے یہاں سے گرا ہو گا۔ باغ کے مالک سے ملے، اور کہا کہ میں نے آپ کے درخت کا سیب کھا لیا ہے لہٰذا یا تو معاف کر دیں یا قیمت لے لیں، اس نے کہا معاف تو میں نہیں کرتا، ہاں قیمت ادا کر دو، کہنے لگے جو بھی قیمت ہو گی مزدوری کرکے دے دوں گا، اس نے کہا میری ایک بیٹی ہے، گنگی ہے زبان سے، آنکھوں سے اندھی ہے، کانوں سے بہری ہے، پاؤں سے لولی لنگڑی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ تم نکاح کرو اور ساری زندگی اس کی خدمت کرو اس کو خوش رکھو، یہ قیمت دینی پڑے گی۔فکر میں پڑ گئے مگر دل نے کہا کہ دیکھو یہ مجاہدہ برداشت کرنا آسان، قیامت کے دن اللہ رب العزت کے سامنے ملزم بن کر کھڑا ہونا یہ بڑا مشکل کام، آخر کار تیار ہو گئے، نکاح ہو گیا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس گئے تو حیران، چاند کا ٹکڑا آنکھیں خوبصورت، بولنے والی، سننے والی، سمجھنے والی، حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ تم اپنے باپ کی ایک ہی بیٹی ہو یا کوئی اور بھی تمہاری بہن ہے؟۔


اس نے کہا میں ایک ہی بیٹی ہوں،خیر رات گزر گئی، اگلے دن سسر سے ملاقات ہوئی، سسر نے پوچھا کہ بتاؤ مہمان کو کیسا پایا، کہا آپ نے تو فیجوکیشن کچھ اور ہی بتائی تھی،مگر وہ تو ایسی نہیں وہ بہت دانا، بینا، آپ کے بتلائے ہوئے ہر عیب سے مبرا ہے، انہوں نے فرمایا، ہاں! یہ میری بیٹی ظاہر حسن جمال بھی رکھتی تھی اور باطنی اعتبار سے بھی، حدیث کی عالمہ قرآن کی حافظہ ہے، میں چاہتاتھا اس کے لیے کوئی ایساخاوند ڈھونڈوں کہ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو، کیونکہ جس کے دل میں خوفِ خدا نہ ہو وہ بیوی کے حقوق صحیح ادا نہیں کر سکتا،(اسی لیے سورۂ نساء پڑھ کر دیکھیں ہر دوسری چوتھی آیت میں اتقوا اللہ اتقوااللہ ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کاخوف دل میں پیدا نہیں کریں گے


وہ دوسروں کے حقوق کو صحیح ادا نہیں کر سکیں گے) تو میں چاہتا تھا کہ کوئی ایسا بندہ ملتا، جب تم نے ایک سیب کی وجہ سے معافی مانگی، تو میں نے کہا اس کے دل میں خوفِ خدا ہے اس لیے میں نے اپنی بیٹی کے لیے تمہیں خاوند کے طور پر تجویز کیا، دونوں ساتھ رہے لگے، اللہ رب العزت نے انہیں بیٹا دیا جس کا نام انہوں نے نعمان رکھا، یہ نعمان بڑا ہو کرامام اعظم ابوحنیفہؒ ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں