میری ساری بھوک مر گئی

وہ روزانہ میرے کلینک آتی تھی اور سب سے آخری سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتی تھی، اس دوران وہ اپنی باری کا انتظار کرتی رہتی، وہ یہاں آنے والی عورتوں سے ان کی بیماری کے بارے میں سوال جواب کرتی اور ان کی بیماریوں کے متعلق غور سے سنتی، اس دوران وہ کسکتی ہوئی دوبارہ آخری سیٹ پر پہنچ جاتی، اس کی عمر22 یا 25 سال کے لگ بھگ ہو گی، کپڑے قیمتی اور صاف ستھرے پہنتی تھی، میں ملک کا مشہور ڈاکٹر رحمان شاہ ہوں، دن میں سرکاری ہسپتال میں فرائض انجام دیتا ہوں اور شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر رات دیر تک بیٹھتا ہوں، میری پریکٹس خوب چلتی ہے، لوگوں کا کہناہے کہ اللہ پاک نے میرے ہاتھ میں شفا رکھی ہوئی ہے اور میری معائنہ فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے کیونکہ میرے

ہے کیونکہ میرے گھر انتظار کرنے والے کوئی نہیں ہے اس لیے میں زیادہ وقت اپنے کلینک پر ہی گزارتا ہوں، میری بیوی دو سال پہلے اللہ کو پیاری ہو چکی ہے اور اپنی دو بیٹیوں کی شادی کر چکا ہوں۔ یہ لڑکی روزانہ میرے کلینک پر آتی ہے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھ کر بغیر معائنہ کرائے اور دوا لیے چلی جاتی ہے۔ آج میں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ کر لیا ہے کہ آخر وہ کیا کرنے یہاں آتی ہے، جب وہ آئی تو میں نے اپنی مریضہ کو دوسری طرف بیٹھنے کو کہا اور اسے اپنی طرف بلا لیا، وہ پریشان ہو کر میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے اس سے کہا جی میں آپ کو ہی بلا رہا ہوں، آئیں اب آپ کی باری ہے، وہ اٹھی اور تقریباً گھسیٹتے ہوئے قدموں سے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی، میں نے اس سے کہا بیٹھ جائیں، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے اس کا مسئلہ پوچھا، اس نے گلہ صاف کیا اور دھمیے لہجے میں بولی، ڈاکٹر جی آپ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں، میں غریب عورت آپ کی فیس ادا نہیں کر سکتی اور میں اپنا یہاں علاج کرانے نہیں آئی۔ میں نے پوچھا پھر آپ یہاں کیا کرنے آتی ہو؟ اس نے جواب دیا ڈاکٹر صاحب میں پیراں اٹھ میں رہتی ہوں وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ ایک ہی حکیم تھا وہ بھی مر گیا، پچھلے دنوں بستی میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی، کہیں ماؤں کی گود اجڑ گئی کیونکہ ہمارے علاقے میں کوئی ڈاکٹر نہیں۔

اسی بیماری کی وجہ سے میری شانو بھی مر گئی اور پھر وہ رونے لگی، مجھے لگا کہ وہ بستی کے لوگوں کے علاج کے لیے اصرار کرے گی۔ مگر میرے پاس نہ تو وقت تھا اور نہ ہی جذبہ، میں کیسے اپنا چلتا ہوا کلینک چھوڑ کہ اس کے ساتھ اس کی بستی کے لوگوں کا علاج کرنے چلا جاتا۔ اسی خدشے کے پیش نظر میں نے پہلے ہی صاف جواب دینا مناسب سمجھا دیکھو بی بی اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ اگر وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے یہ میری نہیں بلکہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اور میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔

براہ مہربانی میرا وقت ضائع نہ کرو، میرا غرور اور تکبر میرے لہجے سے صاف نظر آ رہا تھا۔ اس جہاں کے فانی ہونے کا اعتراف تمام مخلوقات میں سے صرف نوح انسان کو ہے مگر پھر بھی اس کی بھوک بے قابو ہے۔ چاہے وہ دولت کی ہو یا کسی اور چیز کی، میرے مریض میرا انتظار کر رہے تھے، میں نے جان چھڑانے کی غرض سے غصیلے لہجے میں کہا بی بی جب کوئی بیماری نہیں اور کوئی کام نہیں تو یہاں کیا کرنے آتی ہو؟ میرا کتنا ٹائم تمہاری وجہ سے ضائع ہو گیا۔ اس نے چند ثانیے میرے چہرے کو دیکھا اس کے چہرے پر حیرانی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ شاید اسے مجھ جیسے اعلیٰ درجے کے ڈاکٹر سے ایسی گھٹیا پن کی امید نہ تھی۔

وہ گویا بولی ڈاکٹر جی! آپ کے پاس جو مریض آتے ہیں میں ان سے باتوں باتوں میں ان کی بیماری کے متعلق پوچھتی ہوں جو دوائی آپ ان کو تجویز کرتے ہیں، اس کا نام بھی پوچھ لیتی ہوں اسی طرح روز ایک دو مریض سے میری بات ہو جاتی ہے، گھر جا کے میں بیماری اور دوائی کا نام کاپی میں لکھ لیتی ہوں، پوری پانچ جماعتیں پاس ہوں پھر اگر بستی میں کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو میں بیماری کے حساب سے آپ کی بتائی ہوئی دوائی انہیں لا کر دیتی ہوں، میری شانو تو مر گئی مگر میں کسی اور کی شانو کو نہیں مرنے دوں گی، یہ کہہ کر وہ تو کلینک سے چلی گئی مگر میری اعلیٰ تعلیم اس کی پانچ جماعتوں کے سامنے بے وقعت ہو گئی اس لڑکی کی اس بات نے میری بھوک ہی مار دی۔ میری ساری بھوک مر گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں