خودکشی کا انوکھا طریقہ

وہ شخص ساری زندگی اسم اعظم کی تلاش میں رہا، اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا! وہ جانتا تھا کہ اسم اعظم وہ اللہ کا پاک نام ہے جس سے اسے پکارا جائے تو سارے بگڑے کام بن جاتے ہیں، بہت تحقیق کی ، سب کی رائے مختلف تھی، کوءی کہتا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے، کوءی کہتا کہ حی القیوم اسم اعظم ہے کوءی کہتا ، واحد اسم اعظم ہے۔ اس نے پڑھا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اسم اعظم کا علم تھا ،یہ مبارک نام ان کی انگوٹھی پر نقش تھا، جس کی وجہ سے ساری دنیا پر انھوں نے حکومت کی۔اس کا دین سے کوئی خاص لگاؤ بھی نہیں تھا، مگریہ اسم اعظم کا خیال اس کے سر پر ہمیشہ سوار رہتا ، وہ اللہ کے مختلف نام جو اس کے خیال

کے

خیال میں اسم ا عظم ہوسکتے ہیں لے کر پکارتا! پھر مشاہدہ کرتا کہ کیا اس سے اس کے حالات میں کوءی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ مگر اس کے حالات پہلے کی طرح ہی خستہ تھے!۔آج وہ سخت مایوس تھا، ہر طرف سے ناکامی کے بعد،جیسے اس نے زندگی کی آرزو ہی چھوڑ دی ہو، اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا! اس نے خودکشی کے مختلف طریقوں پر غور کیا، پھر اسے خیال آیا کہ اگر کچھ ادویات زیادہ مقدار میں کھا لی جائیں تو اس سے آدمی مر جاتا ہے۔اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ کون سی ادویات ہوتی ہیں، اس کے گھر میں ادویات کا ذخیرہ تھا، جو مختلف اقسام کی تھیں! اس میں سیرپ، اور بہت سی گولیاں تھیں، اس نے کافی مقدار میں گولیاں کھائیں اور سیرپ پر سیرپ پینے شروع کردئیے!جب وہ یہ سب کچھ کرچکا ،تو اسے اللہ کا خیال آیا، اسے اس بات کا خیال آیا کہ خودکشی حرام ہے، اور اس کی سزا جہنم ہے۔ اس پر شدید خوف طاری ہوگیا، کچھ اس بات سے کہ وہ عنقریب مرنے والا ہے کچھ اس بات سے کہ جس طریقے سے مر رہا ہے وہ بھی حرام ہے۔

اس نے رونا شروع کردیا، کچھ دیر بعد اٹھا، وضو کیا ، جائے نماز بچھایا اور نماز پڑھنے لگا، اس کے آنسو جائے نماز پر گر رہے تھے۔ نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے! آج جیسے پہلی بار دل سے دعا کررہا تھا، یااللہ مجھے بچا لے! میں ناسمجھ ہوں، یااللہ میں آئندہ کبھی بھی اس طرح کا عمل نہیں کروں گا۔ کافی دیر تک دعا میں روتا رہا۔ سارا دن پریشان رہا کہ جو اس نے ادویات کھاء ہیں کہیں اس کی وجہ سے اس کا برا حال نہ ہوجائے! مگر دن خیریت سے گزر گیا اور اسے کچھ نہ ہوا!اب اسے سمجھ آئی کہ اسم اعظم اللہ کو دل سے پکارنے کا نام ہے، چاہے جس نام سے مرضی پکارو! اللہ سنتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں