اولاد

ایک بوڑھا آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ رہنے کے لیے گیا۔ کوئی تیسرا دن تھا کہ اس کے بیٹے اور بہو نے نوٹ کیا کہ وہ کھاتے وقت ہاتھوں کی کپکپی کی وجہ سے جگہ جگہ کھانا گرا دیتا تھا اور ایک دن تو اس نے حد کردی کہ اس سے اچانک تھوڑی سی چائے بھی ڈائننگ ٹیبل پر ڈل گئی۔ سارا دستر خوان بیڑہ غرق ہو گیا۔ چائے کی پیالی نیچے فرش پر گر کر کرچی کرچی ہو گئی۔ بوڑھے کو بہت شرمندگی ہو ئی۔ اس کے بیٹے اور بہو نے سوچا کہ ایسے تو روز روز گند مچے گا کیوں نہ ابا جی کی ایک سادی سی لکڑی کی میز ایک کونے میں علیحدہ لگا لیں۔ان کے لیے برتن بھی علیحدہ کردیے۔لکڑی کے پیالے اور لکڑی کی پلیٹ چمچ علیحدہ کرکے ابا جیکو ان میں کھانا پینا دینے

کھانا پینا دینے لگے۔ ایک دن میاں بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھی اور شوہر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر اپنے چار سالہ بیٹے پر پڑی۔۔اس نے بیٹے سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو۔ بچے نے ہاتھ میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جمع کر رکھے تھے۔۔ ہاتھ کھول کے اپنے باپ کو دکھائے اور بولا کہ آپ اور امی جب بوڑھے ہو جا ئیں گے تو میرے پاس رہیں گے نا۔ اس وقت کے لیے آپ دونوں کے لیے لکڑی کے برتن بنا رہا ہوں کیوں کہ آپ دونوں علیحدہ ٹیبل پر اکیلے کھایا کریں گے نا۔

بچے کی بات سن کر خاوند دم بخود رہ گیا اور بیوی کی طرف دیکھا جو ٹیوی چھوڑ چھاڑ کے بچے کی بات پر رنجیدہ تھی۔ اگلے دن سے دونوں میاں بیوی نے کونے والا ٹیبل باہر پھینک دیا اور بچے کے داداجان بھی باقی سب کے ساتھ کھانا کھانے لگے۔ آج بھی بڑھاپے کی وجہ سے ان سے کبھی چائے گرتی ہے تو کبھی سالن مگر اب ان کا بیٹا اور بہو کوئی شکایت نہیں کرتے۔ انسان جو کچھ بھی اپنی اولاد کو سکھاتا ہے اپنے اعمال کی پاداش اور اپنی تربیت سے سکھاتا ہے۔ جو بھی آج ہم بوئیں گے وہی کل ہم نے کاٹنا ہے تو اپنی رویے کو سب کے ساتھ بہتر بنائیں تاکہ آپ اپنی اولاد کی بہترین پرورش کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں